حضرت خالد بن ولید

حضرت خالد بن ولید

New Project (20)

رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے نے ہر طرف اپنے سائے پھیلائے ہوئے تھے۔ ایسے میں ایک شخص قلعے کی دیوار سے رسا لٹکائے نیچے اتر رہا تھا۔ وہ جس قدر اپنی منزل کے قریب آرہا تھا، اسی قدر طرح طرح کے اندیشے اس کے دل کی دھڑکنوں کو تیز کر رہے تھے۔
“کہیں ایسا نہ ہو کہ قلعے والے مجھے دیکھ لیں اور تیر مار کر راستے ہی میں میرا قصہ تمام کر دیں۔۔۔۔ کہیں نیچے اترتے ہی مسلمانوں کی تلواریں میرے خون سے رنگین نہ ہو جائیں۔”

یہ تھے وہ خدشات جو اس کے دل و دماغ میں شدت سے گونج رہے تھے۔ پھر جوں ہی اس نے زمین پر قدم رکھا مجاہدین نے اسے گرفتار کر لیا۔ اس کا یہ خیال بالکل غلط ثابت ہوا کہ مسلمان مجاہد رات کے اندھیرے میں قلعے سے بے خبر ہوں گے۔ اترنے والے نے اپنے خوف پر قابو پاتے ہوئے کہا کہ اسے لشکر کے سپہ سالار کے سامنے پیش کر دیا جائے۔ وہ سپہ سالار کون تھے؟ وہ اللہ کی تلوار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مجاہدین کی مٹھی بھر فوج کے ساتھ ملک شام کے دارالسلطنت دمشق کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ دن پر دن گزرتے جا رہے تھے مگر قلعہ تھا کہ کسی طور فتح ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ مجاہدین کو ایک دو دن کے آرام کا وقفہ دے کر وہ یا تو قلعے کے دروازے توڑنے کی کوشش کریں گے یا اس کی مضبوط دیواروں میں سرنگ لگانے کی ترکیب آزمائیں گے۔ انھیں یہ بھی یقین تھا کہ اللہ کی غیبی مدد ضرور آئے گی۔

اب یہ غیبی مدد آ پہنچی تھی! دمشق کے قلعے سے نیچے اترنے والے نوجوان نے مسلمان ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کی یہ خواہش فوراً پوری کر دی گئی۔ اس نے دعوی کیا کہ وہ مجاہدین کو قلعے کے اندر پہنچا سکتا ہے۔ اس کے مطابق کل رات رومیوں پر حملے کا بہترین موقع ہے۔ ان کے مذہبی رہنما “بطریق” کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے اور پورا دمشق جشن منا رہا ہے۔ اس جشن میں فوج سمیت سب شراب پئیں گے اور یہی ان پر فیصلہ کن وار کرنے کا موقع ہو گا۔ اگلی رات خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک بہت بڑا خطرہ مول لے رہے تھے۔ انھوں نے نہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور دوسرے ماتحت سالاروں کو اپنے اس منصوبے سے آگاہ کیا تھا اور نہ ہی وہ کوئی زیادہ فوج اپنے ہمراہ لے جا رہے تھے۔ وہ یہ کام انتہائی رازداری سے کرنا چاہتے تھے۔ صرف ایک سو مجاہد جنگجوؤں کو قلعے پر شب خون مارنے کے لیے منتخب کیا گیا۔

 

 

 

Advertisements

یہ زمانے کی روایتیں

یہ زمانے کی روایتیں

images (1)

اس سے پہلے چار دفعہ مختلف گھروں کے لڑکے اس رشتے سے رد کر چکے تھے یہ پانچویں بار تھی وہ اپنی دوست کو میسج پر بتا رہی تھی کے آج پھر لڑکے والے دیکھنے آ رہے ہیں دعا کرنا انہیں میں پسند آ جاؤں مجھ سے اب بابا کے چہرے پر جھریاں نہیں دیکھی جاتی ہیں نہ جانے انہوں نے ایسا کیا گناہ کیا تھا کے میں ان پر بوجھ بنی ہوئی ہوں.
اب تو ماں کے ہاتھ بھی کانپتے ہیں اس مشین کو چلا چلا کر انہوں نے آج تک میرے لیے بہت کچھ بنایا لیکن قسمت پتہ نہیں کیا امتحان لے رہی ہے.
شام کے وقت وہ اپنے کمرے میں بیٹھی یہی دعا مانگ رہی تھی کے میرے بابا کی عزت بچ جائے کہیں وہ پھر سے یہی نہ سوچیں کے بیٹی کیا پیدا کر لی عذاب میں پڑ گئے ہم تو.
اور وہی ہوا آنے والوں نے نہیں پوچھا کے:
آپ کی بیٹی نماز پڑھتی ہے یا نہیں..!
انہوں نے نہیں پوچھا کے کیا دین کے لیے کبھی کسی مدرسے میں گئی یا نہیں…!
یا کتنا پڑھا دین کا…!
انہوں نے نہیں پوچھا دنیا کا کتنا پڑھا سکول کتنا پڑھا…!
. انہوں نے نہیں پوچھا کے بیٹی کیا دو وقت کا کھانا بنا کر اپنے شوہر کو اور ہمیں دے سکتی ہے یا نہیں…!
بلکہ صاحبزادے جو کے ایک طرف کرسی پر ٹانگ رکھے بیٹھے تھے انہوں نے ماں کو اشارہ کیا ماں نے بھی کہہ دیا بیٹی کو بلایے…
اندر سے لڑکی کو لے کر اُس کی ماں باہر آئی یہاں شہزادہ چارلس صاحب منہ اٹھایا اور باہر چلے گئے…
لڑکے کی ماں پیچھے گئی بیٹا کیا بات ہے یہاں اندر لڑکی اور اس کے ماں باپ سن رہے ہیں…..
مجھے نہیں کرنی اس سے شادی شکل تو دیکھیں اس کی یہ بھی کوئی لڑکی ہے.
لڑکے کا والد معزرت کرتا ہوا وہاں سے اٹھا اور اِدھر لڑکی وہاں سے اٹھی اور بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر دیا.
تین دن کمرے کے ایک کونے میں وہ گھٹ گھٹ کر مرتی رہی اور آخر کار چوتھے دن گولیوں کا ایک پیکٹ اپنے اندر ڈال کر وہ اس معاشرے سے خود کو الگ کرنے کے لیے سکون کی نیند تلاش کرنے چلی گئی.
اب میرا سوال ہے کے کیا اسے اُس کے حسن نے مارا ہے؟
یا اُس پانچویں شخص نے مارا ہے.؟
یا اُن تمام لوگوں نے جو اس سے پہلے آ چکے تھے.؟
میں بتاتا ہوں…..! لعنت بھیجتا ہوں میں اس گندے معاشرے پر جس نے اسے مارا ہے لوگوں کی بیٹیوں کو ایسے دیکھنے جاتے ہو جیسے کے کسی باغ کا بیوپاری جاتا ہے باغ اچھا لگا تو ٹھیک ورنہ کوئی اور لے لوں گا.
آپ میں ہم وہ تکلیف نہیں محسوس کر سکتے ہیں جو ایک باپ کے سینے میں لگی ہوتی ہے ایک ماں کا کلیجہ جب پھٹ رہا ہوتا ہے اور جب اُس کی آنکھیں خون بہا رہی ہوتی ہیں.
جب کسی کی بہن بیٹی کو دیکھنے جاؤ تو اسے شکل سے نہ دیکھو… بلکہ والدین سے پوچھو کے کیا وہ دین جانتی ہے… کیا وہ میری ماں کو ماں سمجھنے کے قابل ہے…
کیا وہ دو وقت کا کھانا مجھے اور میرے ماں باپ کو دے سکتی ہے.
اور اگر حسن چاہیے ہے تو میں آپ کو ایک مشورہ دیتا ہے جاؤ مغرب میں وہاں حسن ہے اور وہاں حسن ملے گا بھی باقی حیا شرم دین اُن کے قریب سے بھی نہیں گزرا ہو گا اور ویسے بھی تمہیں کون سا حیا شرم یا دین چاہیے ہے.
زرا سوچو گھر میں جو بہن ہے اسے پانچ دفعہ کوئی دیکھنے آئے اور پانچویں دفعہ بھی کہے نہیں مجھے نہیں یہ پسند تو تم پر قیامت گزرتی ہے اور تمہیں یاد بھی ہے خود کتنی بیٹیوں پر قیامت گرا چکے ہو.
یقین مانیے ہمیں پتہ بھی نہیں ہوتا کے کہیں ہماری وجہ سے کسی گھر میں کتنا بڑا فساد کتنا بڑا دُکھ جنم لے چُکا ہے.
حُسن نہ دیکھیے کسی کی عزت دیکھیے. کیا فائدہ اگر حُسن ملے اور عزت نہ ہو بے عزتے لوگ ہوں حیا نہ ہو دین نہ ہو.. لعنت نہ بھیجوں میں ایسے لوگوں پر.
اور کیا ہی زندگی ہو کے سادہ چہرہ ہی کیوں نہ ہو دین ہو عزت دار لوگ ہوں حیا ہو اور دین ہو.
یہ بیٹیاں اپنی خوشی سے زیادہ اپنے باپ کے دُکھ میں مر رہی ہوتی ہیں کے کہیں میرا والد یا میری والدہ مجھ سے مایوس تو نہیں
لوگوں میں حیا شرم اور دین دیکھو…حسن نہیں..!!
یہ سچائی اگر کسی کو بُری لگی ہو تو معزرت وسلام ۔۔۔

مسلمانوں کے زوال اور عروج کی کہانی

ٹیکنالوجی اور فلسفہ

15482437027_af6a2b2b6f_k

کنواری بیٹیوں کے جب اولاد ہو گی تو مغرب کی تہذیب و ثقافت کا پتہ چلے گا
سر! اس ٹیکنالوجی نے ان سے ان کا خاندان چھین لیا
ارے یہ جو تم آج زوال پذیر ہو جانتے ہو کیوں ہو ؟ اس لیے کہ تم نے مغرب کو اپنا دشمن سمجھ لیا ہے۔ تم نے سائنس و ٹیکنالوجی کو چھوڑ دیا بس مولویت کو سینےسے لگائے رہے۔۔ عقل سے کام لو سائنس و ٹیکنالوجی کے بغیر کوئی قوم جی نہیں سکتی یہ جو تصوف، تصوف کیے جارہے ہونا بس یہ ہے اس قوم کا مسئلہ حقیقی ۔۔۔۔اس مولویت سے جب تک جان نہیں چھڑاؤ گے تم کامیاب نہیں ہو گے ۔میری تقریر جاری تھی
سر ! میرا ایک سوال ؟
ایک اسٹو ڈینٹ نے کھڑے ہو کر کہا
جی پوچھیے ! میں نے ٹائی کی ناٹ درست کرتے ہوئے جواب دیا
سر ! میرا سوال یہ ہے کہ
آخر مو سیٰ علیہ السلام نے فرعون کو باوجود اس کے کہ وہ سائنس و ٹیکنالوجی رکھتا کیوں کر شکست دے دی ؟
آخر سائنس و ٹیکنالوجی میں اپنے وقت کے امام ہونے کے باوجود اندلس کے مسلمان کیوں زوال پذیر ہوئے ؟
آخر سائنس و ٹیکنالوجی میں اپنے وقت کا امام ہونے کے باوجود خلافت عباسیہ جاہل اجٹ تاتا ریوں سے کیوں شکست کھا گئی ؟
آخر وہ کون سی ٹیکنالوجی اور فلسفہ تھا کہ پچاس سال کے اند اندر مسلمان بغیر کسی مادی وسائل کے دوبارہ غالب آگئے چنگیز خان کے پوتے برقہ خان نے اسلام قبول کیا اور طاقت کا توازن بدل گیا ؟
آخر ترک ویانا میں داخل کیوں نہ ہوسکے جب کہ ترکوں کے پاس ٹیکنالوجی اور مادی وسائل یورپ سے کہیں زیادہ تھے؟
سر ! آخر مغلیہ سلطنت چند ہزار انگریزوں سے کیسے شکست کھا گئی ؟ جب کہ مغلیہ سلطنت کی طاقت، ٹیکنالوجی انگریزوں سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں تھی ؟
آخر سائنس و ٹیکنالوجی میں اپنے وقت کا سرخ درندہ (روس) افغانستان میں کیوں ناکام ہوا؟
ترکی ، مصر ، ملایشیاء نے مغربی فکر اور تعلیم کو اپنا یا تو وہاں کیا ترقی ہوئی ؟ انہیں کیا عروج نصیب ہو گیا؟ مرسی اور سیسی کے حالیہ واقعات نے ساری قلعی کھول دی ہے اس نام نہاد جمہوریت اور عالمی غنڈہ گردی کی
سرسید احمد خان نے جو علی گڑھ یونیورسٹی قائم کی تھی کیا آج یورپ اس سے علم کشید کررہا ہے ؟ کیا اس یونیورسٹی کے ذریعے مسلمان کامیاب ہو گئے ؟ کیا برصغیر کے مسلمانوں نے عروج حاصل کر لیا؟
سر ! آخر وہ کونسی ٹیکنالوجی تھی جس نے میدان بدر میں اپنے سے تین گنا زیادہ بڑی طاقت جو اسلحہ سے مکمل لیس مادی لحاظ سے طاقت ور کیوں مسلمانوں سے شکست کھا گئی ؟
سر کیا وجہ تھی کہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں کو بغیر کسی سائنس و ٹیکنالوجی کے اپنے وقت کی سپر پاور ز قیصر و کسری سے ٹکرائے اور ان کو پاش پاش کر دیا؟
سر ! وہ کون سی طاقت تھی کہ مدینہ کے منبر پر امیر المؤمنین جمعہ کے خطبے کے دوران فرماتے یا ساریۃ الجبل (اے ساریہ پہاڑ کی طرف سے ہوشیار) اور حضرت ساریہ میلوں دور اس آواز کو سنتے اور حکمت عملی ترتیب دیتے اور بلآخر کامیاب ہوتے یہ کون سی طاقت تھی جس نے کامیاب کرایا ؟
سر! معذرت کے ساتھ ہمارے مفکرین گذشتہ دو سو سال سے صرف مغرب سے احساسِ کمتری کا شکار ہیں ہمیں وہ یہ درس دیتے ہیں کہ مغرب کو امام بنا لو
سر ! مغرب کی نقالی نے تو ہمیں تباہ کر دیا ہے
بقول :میر تقی میر
ؔ
میر کیا سادہ ہیں کہ بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
میری پیشانی پر پسینے کےقطرے آرہے تھے جب کہ آڈیٹوریم اس لڑکے کے لیے کھڑے ہو کر تالیاں بجا رہا تھا۔
میں سوچ رہاتھا کہ کاش آج یہ دن دیکھنے کے لیے میں پیدا ہی نہیں ہوتا
سر ! آخری بات ۔ تالیوں کی گونج کم ہوئی تو وہ دوبارہ شروع ہوا
سر ! اگر مغرب کو ہم نے اپنا امام بنایا تو یاد رکھیے گا! کچھ دنوں کے بعد یہاں بھی فادر ڈے کے موقع پر ڈی ۔این ۔اے موبائل کھڑی ہو گی اور تین سو ڈالر لے کر باپ کا پتہ بتائے گی کیوں کہ ان کی ماؤں کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کا باپ کون ہے ؟
کنواری بیٹیوں کے جب اولاد ہو گی تو مغرب کی تہذیب و ثقافت کا پتہ چلےگا
سر! اس ٹیکنالوجی نے ان سے ان کا خاندان چھین لیا، ان سے ان کا سکون چھین لیا، ان کی محبتیں اس ٹیکنالوجی کی بھینٹ چڑھ گئیں اور یہاں تک کہ ان سے ان کامذہب بھی چھین لیا آپ اس ٹیکنالوجی سے ہمیں کیا دینا چاہتے ہیں ؟
آڈیٹوریم تالیوں سے گونج رہا تھا
میرے لیے اسٹیج کی سیڑھیاں اترنا بہت مشکل ہو چکا تھا

ہمارے ہر عمل سے مثبت یا منفی توانائی بنتی ہے

ہمارے ہر عمل سے مثبت یا منفی توانائی بنتی ہے

Chimera_1

امریکہ میں جب ایک قیدی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تو وہاں کے کچھ سائنس دانوں نے سوچا کہ کیوں نا اس قیدی پر کچھ تجربہ کیا جاے.
تب قیدی کو بتایا گیا کہ ہم تمہیں پھانسی دے کر نہیں ماریں زہریلا کوبرا سانپ ڈسا کر ماریں گے..اور اس کے سامنے بڑا سا زہریلا کوبرا سانپ لے آنے کے بعد اس کی آنکھیں بند کرکے اس کو کرسی سے باندھ دیا گیا. اور اس کو سانپ نہیں بلکہ دو سیفٹی پِن چبھائی گئی… اور قیدی کی کچھ سیکنڈ میں ہی موت ہوگئی..پوسٹ مارٹم کے بعد پایا گیا کہ قیدی کے جسم میں سانپ کے زہر جیسا ہی زہر ہے……اب یہ زہر کہاں سے آیا جس نے اس قیدی کی جان لے لی… وہ زہر اس کے جسم نے ہی صدمے میں جاری کیا تھا… ہمارے ہر عمل سے مثبت یا منفی توانائی بنتی ہے اور وہ ہمارے جسم میں اسی کے مطابق ہارمونس تیار کرتی ہے…
75 فیصد بیماریوں کی وجہ منفی سوچ ہی ہوا کرتی ہے….آج انسان خود ہی اپنی منفی سوچ سے خود کو ختم کررہا ہے..اپنی سوچ ہمیشہ مثبت رکھیں اور سدا خوش رہیں..
25 سال کی عمر تک ہمیں یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ لوگ کیا سوچیں گے.. 50 سال کی عمر تک اسی ڈر میں جیتے ہیں کہ لوگ کیا سوچیں گے…
50 سال کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ہمارے بارے میں کوئی سوچ ہی نہیں رہا تھا…… زندگی خوبصورت ہے… اس لیے ہمیشہ خوش رہو…